اسلام آباد ہائیکورٹ، نواز شریف کو 10 ستمبر تک وطن واپسی کا حکم، مریم اور صفدر کے مقدمے کی الگ سماعت ہوگی

اسلام آباد (نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو واپس آکر عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیدیا۔

عدالت نے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس میں ضمانت 27فروری کو ختم ہوچکی، 10ستمبر کو عدالت میں پیش ہوں ورنہ قانونی کارروائی کرینگے جبکہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے مقدمے کی الگ سماعت ہوگی ۔

منگل کے روز کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی ۔

عدالت نے کہا کہ ضامن کہاں ہیں ان کیخلاف بھی کارروائی کرنا ہوگی، پنجاب حکومت سے ضمانت ختم ہونے پر وفاقی حکومت نے نواز شریف کی صحت جاننے کیلئے کیا کیا؟ٹرائل یا اپیل میں پیشی سے فرار ہونا بھی جرم ہے، مفرور ہیں تو الگ تین سال سزا ہوسکتی ہے، پیش نہ ہونے پر کارروائی ہوگی۔

میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب کی طرف سے نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کیس کی پیروی کی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کو بیرون ملک جانیکی اجازت دی پنجاب حکومت نے بھی میڈیکل بورڈ بنایا ، حکومت نے 7 کروڑ زر ضمانت کے عوض سابق وزیراعظم کو بیرون ملک بھیجنے کی شرط رکھی۔

خواجہ حارث نے دلائل ہوتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اگر نواز شریف کو عدالت طلب کر رہی ہے تو پھر بھی وہ پنجاب حکومت کا فیصلہ چیلنج کر سکتے ہیں جس پر جسٹس عامر نے کہا کہ انکا حق تو نہیں چھین رہے نا، وہ فیصلہ چیلنج کر سکتے ہیں ۔

وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف اس حالت میں نہیں کہ وہ ابھی پاکستان آ سکیں اسی نوعیت کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہمارے پاس نواز شریف کی دو اپیلیں زیر سماعت ہیں نواز شریف کو مخصوص وقت کیلئے ضمانت دی گئی پنجاب حکومت نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی۔

جسٹس عامر فاروق نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت کا اسٹیٹس کیا ہے جس پر وکیل صفائی نے بتایا کہ نواز شریف اس وقت ضمانت پر نہیں ہیں نواز شریف کو خود کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔

نواز شریف پنجاب حکومت کے فیصلے کو متعلقہ عدالت میں چیلنج بھی کر سکتے ہیں نواز شریف علاج کی غرض سے لندن گئے جب پنجاب حکومت نے نواز شریف کی ضمانت مسترد کی تو نواز شریف لندن میں زیر علاج تھے میڈیکل بورڈ نے رائے دی تھی کہ سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے نواز شریف کو فوری طور پر بیرون ملک جانے کی ضرورت ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی پنجاب حکومت نے بھی میڈیکل بورڈ بنایا جس نے کہا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں نہیں ہو سکتا حکومت نے 7 کروڑ زر ضمانت کے عوض نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی شرط رکھی ۔

لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف نے درخواست دائر کی نواز شریف اور شہباز شریف نے بیان حلفی دی کہ نواز شریف علاج کے بعد وطن واپس آئینگے۔عدالت نے بیان حلفی پر نواز شریف کو چار ہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ضمانت کے فیصلے کو سپرسیڈ نہیں کر سکتی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ نے سزا معطلی کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی حدود میں رہتے ہوئے فیصلہ دینا تھا جس پر خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس پنجاب حکومت کے سامنے پیش کی گئیں جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت نے کب نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی تھی جس پر خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے 27 فروری کو نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی۔

جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق عملدرآمد کر رہی ہے جس پر خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ وہ ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق کر رہی ہے یا نہیں اس پر الگ سے بات کرینگے، لاہور ہائیکورٹ میں کیاکارروائی چل رہی ہے اسکا اسلام آباد ہائیکورٹ سے کوئی تعلق نہیں، اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہیں فیصلہ اس عدالت نے کرنا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا حکم ای سی ایل کی حد تک ہے جس پر خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ میں عدالت کی بات سے اتفاق کر رہا ہوں کہ نواز شریف عدالتی فیصلے کے مطابق اب ضمانت پر نہیں ہیں کوئی وجہ موجود نہیں تھی کہ نواز شریف واپس نہ آتے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے خواجہ حارث سے کہا کہ آپ میاں شہباز شریف کی بیان حلفی کا پیرا 2 پڑھیں کیا نواز شریف نے اپنی حالیہ میڈیکل رپورٹس پنجاب یا وفاقی حکومت کو دیں جس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ نواز شریف نے رجسٹرار ہائیکورٹ کو اپنی تمام میڈیکل رپورٹ جمع کرائیں۔

دوسری صورت یہ تھی کہ حکومت کو اگر شک ہو تو وہ ہائی کمیشن کا اپنا نمائندہ بھیج کر معلوم کر سکتی تھی۔ ہائی کمیشن کا کوئی بندہ نواز شریف کی حالت جاننے کیلئے نہیں گیا۔

اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی ہدایات ہیں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مجھے اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں دی گئیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف ہسپتال میں زیرعلاج ہیں اگر وہ اسپتال میں زیرعلاج ہو تو پھر تو صورتحال بالکل مختلف ہے جس پر خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف اسوقت ہسپتال میں زیرعلاج نہیں ہیں اگر نواز شریف اسپتال میں زیرعلاج نہیں تو اسکا قطعی طور پر مطلب نہیں کہ وہ سفر کیلئے صحت مند ہیں۔

اس موقع پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں ضمانت مخصوص وقت کیلئے نہیں تھی العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت کا اسٹیٹس اس کیس پر بھی اثرانداز ہو گا جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ نواز شریف چونکہ لندن میں زیر علاج ہیں جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں وہ ہو گا لیکن اسکا آپ نے ابھی کوئی دستاویز نہیں دی۔

نواز شریف کا علاج شروع ہوتا، سرجری ہوتی اور آپ آ کر حکومت کو آگاہ کرتے نواز شریف علاج کی تفصیل جمع کراتے تو پنجاب حکومت نمائندہ بھیج کر تحقیقات کر سکتی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے