حب ڈیم سے پانی کا اخراج شروع، سیکڑوں لوگ منظر کشی کرنے پہنچ گئے

کراچی اور بلوچستان کے کئی علاقوں کی آبی ضروریات پوری کرنے والا حب ڈیم 13 سال بعد مکمل طور پر بھر گیا ہے۔

ڈیم میں سطح آب 339 فٹ کا نشان عبور کرنے کے بعد ڈیم کے اسپل ویز سے خود بخود پانی کا اخراج شروع ہوگیا ہے۔

ان حسین مناظر کی منظر کشی کے لیے علاقے کے سیکڑوں لوگ جمع ہیں۔

واپڈا ذرائع کے مطابق حب ڈیم آخری مرتبہ سال 2007 میں مکمل طور پر بھرا تھا۔

اس وقت اسپل ویز سے پانی گرنے کے مناظر دیکھنے والے بچے اب جوان ہو چکے ہیں اور حب ڈیم کے اسپل ویز کے اطراف میں صبح سے ہی سیکڑوں کی تعداد میں مقامی شہری جمع ہو چکے ہیں، جو پانی کی خوبصورت آبشاروں کی منظر کشی کے لیے بے تاب ہیں۔

آج صبح سویرے حب ڈیم میں پانی کی سطح نے 338 فٹ کا نشان عبور کیا تھا جس کے بعد واپڈا انتظامیہ نے حب ڈیم کو آمدورفت کے لیے بند کر دیا تھا۔

تاہم اس کے باوجود حب ڈیم کے اطراف کی آبادیوں کے مکین، حب ڈیم رہائشی کالونی کے باسی، کراچی کے شہری اور دیگر افراد بڑی تعداد میں اسپیل وے ایریا میں پہنچے ہوئے ہیں، جو یہاں پہلے سے پانی گرنے کے مناظر دیکھ رہے ہیں۔

بلوچستان کے پہاڑی سلسلے تک پھیلے حب ڈیم کے کیچمنٹ ایریا میں حالیہ بارشوں کے بعد 3 روز کے دوران حب ڈیم میں اب تک 9 فٹ سے زائد کی سطح پانی آچکا ہے۔

واپڈا ذرائع کے مطابق کہ کیچمنٹ ایریا سے بارشوں کے پانی کے مزید ریلے حب ڈیم پہنچ رہے ہیں۔

اس موقع پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حب ڈیم کے انتظامی ادارے واپڈا کے حکام اور ایریگیشن کے افسران حب ڈیم پر موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق ہنگامی صورتحال میں حب ڈیم کے نیچے کی آبادیوں سے انخلا کروایا گیا ہے۔

ڈیم کے اسپل ویز سے گرنے والا پانی حب ندی کے راستے لگ بھگ 60 کلومیٹر کا سفر طے کر کے سمندر میں گرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مون سون کی حالیہ بارشوں کے بعد حب ڈیم میں 30 فٹ سے زائد پانی آچکا ہے۔

واپڈا کے متعلقہ افسر سہیل صدیقی کے مطابق اب ٹیم آخری مرتبہ سال 2007 میں مکمل طور پر بھرا تھا۔

45 کلو میٹر کے علاقے تک پھیلے حب ڈیم سے دو نہریں نکلتی ہیں جن میں سے ایک کینال حب ڈیم کے اطراف کے بلوچستان کے علاقوں کی زرعی ضروریات کا پانی فراہم کرتی ہیں جبکہ دوسری جانب کی حب کینال سے کراچی کے غربی علاقوں کو پینے اور دیگر استعمال کے لیے یومیہ 100 ملین گیلن پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔

واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق حب ڈیم میں پانی کا یہ ذخیرہ کراچی کو سپلائی کرنے کے لیے آئندہ تین سال تک کے لیے کافی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے