سفرنامہ اسکردو: دیومالائی حسن کی سرزمین

پاکستان کے انتہائی شمال کی دیومالائی سرزمین گلگت بلتستان کا صدر مقام اسکردو قراقرم کے فلک شگاف پہاڑوں میں گھری ہوئی وسیع و عریض وادی ہے۔ لداخ کے تنگ دروں اور پہاڑوں سے جھاگ اڑاتا شوریدہ دریائے سندھ اسکردو پہنچ کر اپنے ریتیلے کناروں کے درمیان یوں پرسکون معلوم ہوتا ہے جیسے تھکاوٹ کے بعد ریت پر پھیلا دھوپ سینک رہا ہو، اور یہیں سے دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کےٹو، براڈ پِیک، اور گشابروم کو راستے نکلتے ہیں کہ جن پر چلنے والے راہِ جنون کے مسافر مِیل کا پتھر نگاہ میں نہیں رکھتے۔ دنیا بھر سے سیاح ان پہاڑوں کو دیکھنے اور سر کرنے کی چاہ میں مقناطیسی کشش کی طرح کھنچے چلے آتے ہیں اور کئی انہی برفانی تودوں، پہاڑوں سے نبرد آزمائی کرتے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اسکردو میں موت بھی خوبصورت ہے۔
یہ اسکردو ہے: خشک ، پتھریلا، بنجر، ریتیلا، اور دیکھنے میں وحشت بھرا۔
قراقرم ہائی وے کو جگلوٹ کے مقام سے تھوڑا آگے چھوڑتی ہوئی ایک تنگ بھربھری اور خشک پہاڑوں کے درمیاں بل کھاتی سڑک اسکردو کی طرف مڑ جاتی ہے۔ سات گھنٹے کی اس مسافت میں کئی بستیاں، پہاڑی نالے اور خوش اخلاق لوگ مسافر کا استقبال کرتے ہیں۔ دریائے سندھ پر بنا لکڑی کا قدیم پل عبور کرتے ہی ایک سڑک سیاحوں کی جنت شنگریلا کی راہ لیتی ہے جہاں شنگریلا ریزورٹس کے چیئرمین عارف اسلم صاحب نے برف پوش پہاڑوں کے بیچ ایک دلکش دنیا سجا رکھی ہے۔

اس سے اوپر کچورا گاؤں واقع ہے، جہاں درختوں کے بیچ گھِری کچورا جھیل کا نیلگوں پانی ٹھہرا ہے۔ پہاڑوں کے پیچھے دیر سے ابھرنے والے سورج کی پہلی پہلی روپہلی کرنیں یوں آہستہ آہستہ جھیل میں اُترتی ہیں جیسے کوئی بہت مقدس پانی میں پہلے آہستہ سے اپنے پیر کی انگلیاں ڈبوئے، پھر تلوے، اور آخر میں ایڑھیاں۔ زندگی میں پہلی بار کرنوں کو پانی میں اترتا وہیں دیکھا تھا۔

وادی میں بہتے دریائے سندھ کی بھی اپنی ہی طبیعت اور رنگ ہیں۔ چپ چاپ، نیلگوں، اور روپہلا، سردیوں میں اپنے کناروں پر سبز رنگ جھلکاتا ہوا اور گرمیوں میں سلیٹی، جیسے پرانی چاندی ہو۔ تبت والے کہتے ہیں کہ یہ دریا شیر کے منہ سے نکلتا ہے، اس لیے اسے شیردریا کہتے ہیں۔ بھلا ہو اس شیر کا جس نے اپنے قبیلے کی روایات کے خلاف نعمت نِگلی نہیں اُگلی ہے۔

سکردو کے بازار سے آگے ایک سڑک دنیا کے بلند ترین پہاڑی میدان دیوسائی کو مڑ جاتی ہے اور اسی بل کھاتی سڑک پر سدپارہ جھیل پر نظر پڑتی ہے جہاں اب ڈیم تعمیر کیا جا چکا ہے۔ سدپارہ کی جھیل کا پانی راتوں رات چڑھ جاتا ہے۔ ایک اکلوتا ہوٹل جھیل کے کنارے کھڑا ہے، اور آدھا پانی میں ڈوب چکا ہے، صرف تین کمرے باقی بچے ہیں۔ پورے چاند کی رات میں سدپارہ جھیل سفید جادو کرتی ہے جو کالے جادو سے زیادہ کشش رکھتا ہے۔
سفروں میں گزری ایک رات کے پچھلے پہر میری آنکھ کھلی ۔ دروازہ کھول کے باہر نکلا تو باہر منظر ہی عجب تھا۔ پانی کی سطح بہت اوپر تک چڑھ آئی تھی اور کمروں کے باہر بنے لان جہاں میں بیٹھا تھا وہ اب دو تین انچ پانی میں تھے۔ سامنے چودھویں کا چاند ٹکا تھا اور پانی دودھیا ہوگیا تھا۔
ایسی وحشت کی رات تھی کہ دل چاہنے لگا جھیل میں ڈبکی لگا کر اس کے پاتال میں اتر جاؤں۔ پورے چاند کی راتوں میں کسی بھی جھیل پر ایسی وحشت طاری ہوجاتی ہے۔ میں اب کبھی کبھی گھر میں بیٹھا سوچتا ہوں کہ چاند سدپارہ پر چمک رہا ہو گا، شاید کوئی میری طرح کا دیوانہ دیکھتا ہو، اور شاید کوئی جھیل میں غرق بھی ہو گیا ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے