سمندر پار پاکستانیوں کو ایسا سمجھا جاتا ہے جیسے وہ غدار ہیں، وزیراعظم

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانی ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، سمندر پار پاکستانیوں کو ایسا سمجھا جاتا ہے جیسے وہ غدار ہیں، سمندر پار پاکستانیوں کو شک کی نگاہ سے کیوں دیکھا جاتا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں سے بڑا ہمارا کوئی اثاثہ نہیں ہے، مگر پھر بھی ہمیشہ ان پر تنقید کی جاتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کی جاتی ہیں کہ دہری شہریت والا یہ عہدہ نہیں لے سکتا، وزیر نہیں بن سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہر دوسرے دن لوگ دہری شہریت کے خلاف عدالت چلے جاتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جتنے وفادار ملک سے باہر بیٹھے ہیں، اتنے شاید ملک میں بھی نہیں ہیں، باہر بیٹھے لوگوں کو احساس ہوتا ہے ملک کتنا اہم ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم احساس نہیں کررہے کتنا بڑا ٹیلنٹ باہر موجود ہے، مراعات دینے کی وجہ سے ایکسپورٹ بڑھنا شروع ہوگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ بڑھانے کا ہدف پورا ہونے تک سمندر پار پاکستانیوں کو مراعات دینی ہیں، جبکہ ہاؤسنگ منصوبے سے تعمیرات کے شعبے کو فروغ ملے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بڑے منصوبوں میں سمندر پار پاکستانیوں کی شراکت چاہتے ہیں، جتنا بھی پیسہ جمع کرتے ہیں آدھا قرضوں میں چلا جاتا ہے، تعمیرات سے ساری معیشت کا پہیہ چلے گا۔

عمران خان نے کہا کہ ڈالر کی کمی کا براہ راست اثر روپے پر پڑتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے