شفاف عنبر میں 10 کروڑ سال سے قید ’جہنمی‘ چیونٹی کی دریافت

اس رکاز میں چیونٹی نے اپنے شکار کو جبڑوں میں جکڑا ہوا ہے، جو اپنی نوعیت کا انتہائی منفرد رکاز ہے۔

بیجنگ: سائنسدانوں نے برما سے ملنے والے، تقریباً 10 کروڑ سال قدیم شفاف عنبر کے ٹکڑے میں ایک ایسی خونخوار ’’جہنمی چیونٹی‘‘ کا رکاز (فوسل) دریافت کیا ہے جو مکمل حالت میں ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس چیونٹی نے اپنے جبڑوں میں لال بیگ جیسے کسی کیڑے کو بھی جکڑا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ عنبر (Amber) کسی درخت یا پودے کی وہ شفاف رال ہوتی ہے جو خارج ہونے کے بعد جم جاتی ہے اور ٹھوس حالت اختیار کرلیتی ہے۔ اگر حالات سازگار رہیں تو یہ شفاف رال اسی ٹھوس حالت میں کروڑوں سال تک محفوظ رہ سکتی ہے اور اگر رال کے بہتے دوران کوئی چھوٹا جانور یا کیڑا مکوڑا اس میں بند ہوگیا ہو تو وہ بھی اس کے اندر ہی محفوظ ہوجاتا ہے۔

اس طرح کے رکازات کو ’’ایمبر فوسلز‘‘ (عنبریں رکازات) کہا جاتا ہے جو اپنی رنگت اور شفافیت کے علاوہ اپنے اندر خاصی مکمل حالت میں محفوظ چھوٹے جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کی وجہ سے بھی خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ نایاب ہونے کے باعث یہ مہنگے بھی ہوتے ہیں۔
دوسری جانب کروڑوں سال پہلے معدوم ہوجانے والی خطرناک شکاری چیونٹیوں کی ایک قسم ’’جہنمی چیونٹی‘‘ (Hell Ant) کے نام سے مشہور ہے۔ اب تک اس کی کئی انواع دریافت ہوچکی ہیں جن میں سب سے نئی دریافت ہونے والی نوع Ceratomyrmex ellenbergeri ہے۔ یہ وہی چیونٹی ہے جو آج سے 9 کروڑ 90 لاکھ (تقریباً 10 کروڑ) سال پہلے شکار کرتے وقت درخت کی رال میں قید ہوگئی تھی اور بعد ازاں عنبریں رکاز میں تبدیل ہوگئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے