شیخ رشید کی کتاب’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک ‘میں بڑے سیاسی انکشافات

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک‘ میں کئی بڑے سیاسی انکشافات کیے گئے ہیں۔

شیخ رشید کی نئی کتاب کے کئی اقتباسات سامنے آئے ہیں، جن میں کئی بڑے سیاسی انکشافات کیے گئے ہیں، انکا کہنا تھا کہ طاہر القادری اور عمران خان کی لندن ملاقات میں دھرنے کے معاملات طے پائے تھے۔

کتاب لال حویلی سے اقوام متحدہ تک میں بتایا گیا کہ آزادی مارچ پر گوجرانوالہ میں حملہ ہوا تو عمران خان نے کنٹینر سے ن لیگ کے وزیر داخلہ چوہدری نثار کو فون کیا ۔

شیخ رشید نے اپنی کتاب میں بتایا کہ عمران خان اپنی تحریک کو طاہر القادری کی تحریک سے الگ اور منفرد رکھتے تھے ،پی ٹی آئی کے 34 ارکان نے استعفیٰ دیا تو سیاسی زلزلہ آگیا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل سے 24 گھنٹے قبل جن شخصیات پر شک کا اظہار کیا گیا ،ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوا جبکہ پیپلز پارٹی کی عدم پیروی کے باعث بینظیر بھٹو کے حقیقی قاتل باعزت بری ہوئے ۔

شیخ رشید نے انکشاف کیا کہ چوہدری برادران بینظیر بھٹو کو این آر او دینے کے حق میں نہیں تھے ،وقت نے پرویز مشرف کا موقف غلط اور چوہدریوں کا درست ثابت کیا۔

انہوں نے کتاب میں لکھا ہے کہ پرویز مشرف وردی کے بغیر صدر بننا چاہتے تھے تاکہ بینظیر بھٹو وزیراعظم اور وہ خود صدر رہیں، پرویز مشرف بینظیر کو این آر او نہ دیتے تو آج ان کا یہ حال نہ ہوتا۔

وفاقی وزیر نے اپنی کتاب میں بتایا کہ پاکستان این پی ٹی پر دستخط کرلیتا تو امریکا ایٹمی تنصیبات کو گھیرے میں لے سکتا تھا ۔

ان کا کہنا تھاکہ پرویزمشرف، ڈاکٹرعبدالقدیرکی ملاقات میں معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئےتھے، ڈاکٹر عبدالقدیر نے ملاقات کے بعد جو بیان دیا وہ ان کا اپنا تھا جس پروہ معذرت کر چکے۔

شیخ رشید نے اپنی نئی کتاب میں بتایا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن آپریشن کی کمانڈ اینڈ کنٹرول وزیر اعلیٰ ہاوس سےہورہی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے