فوج حکومت کیساتھ ہے، ماضی میں ایسا نہیں تھا، ہم مل کر کام کررہے ہیں، افغانستان کا مسئلہ ہو یا بھارت کا آرمی ساتھ دیتی ہے، عمران خان

(اسلام آباد) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فوج حکومتی پالیسیوں کے ساتھ کھڑی ہے ‘ماضی میں ایسا نہیں تھا‘ہم ملکر کام کررہے ہیں ‘ جمہوری حکومت کی پالیسیاں خواہ بھارت کے حوالے سے ہوں یا افغانستان کے پر امن حل کے حوالے سے ہوں، فوج ان پالیسیوں کے ساتھ ہے‘

ہر جگہ پر فوج ہمارے ساتھ کھڑی ہے‘ کسی ایک ملک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے سے فلسطین کا مسئلہ ختم نہیں ہو گا‘ اس مسئلے کا حل خود اسرائیل کے مفاد میں ہے‘پاکستان میں میڈیاکو مکمل تحفظ حاصل ہے ‘میڈیا مکمل آزاد ہے ۔

یہاں تک کہ حکومت اور وزراءکو بھی اس سے تحفظ حاصل نہیں‘ میں تنقیدسے نہیں گھبراتالیکن حکومت کے خلاف پراپیگنڈا‘ میرے خلاف جعلی خبریں چلائی جاتی ہیں ‘ کیا اس کے خلاف عدالت جانا آزادی صحافت پر حملہ ہے ‘ہمارے دو سالہ دور حکومت میں سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ پاکستان میں ایلیٹ کلاس کو احتساب کے کٹہرے میں لایا گیا‘اقتدارمیں آکر مال بنانے والے آج بھی احتساب سے گزررہے ہیں

‘ہمارے دور حکومت میں کرپشن کا کوئی میگا کیس سامنے نہیں آیاکیوں کہ اعلیٰ سطح پر اسے کنٹرول کرلیا گیاہے ، نچلی سطح پر کرپشن کا اعتراف ہے تاہم اس کے خاتمے کے لئے جدوجہد کرنا ہو گی‘سعودی عرب پاکستان کا ہمیشہ دوست رہے گا‘ہماری خواہش ہے کہ او آئی سی مسئلہ کشمیر پرقائدانہ کردار ادا کرے‘

پاکستان کے چین اور امریکا دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں‘پاکستان کو کسی کیمپ کا حصہ ہونے کی ضرورت نہیں‘ ہم ہر ملک کے ساتھ اچھے تعلقات کیوں نہیں رکھ سکتے‘ہمارا مستقبل چین کے ساتھ منسلک ہے‘معیشت کی بحالی ایک رات میں ممکن نہیں ‘ افغانستان میں اگر بدامنی ہوگی

تو پاکستان بھی متاثر ہوگا۔ جمعرات کو غیر ملکی ٹی وی چینل الجزیرہ کو دیئے گئے انٹرویو میں عمران خان نے 62ارب ڈالر کی لاگت کے اقتصادی راہداری منصوبہ کی شرائط میں ترمیم کیلئے چین کے ساتھ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات اس وقت پہلے سے بہت بہتر ہیں۔

افغان جو اپنے لئے اچھا سمجھتے ہیں وہ ہمارے لئے بھی اچھا ہو گا‘افغانستان میں 19 سالہ جنگ اور قتل و غارت کے بعد اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب اچانک ملکر رہنا شروع کر دیں گے تو میرے خیال میں یہ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔

پاکستان نے طالبان اور افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہے، یہ دراصل ایک معجزہ ہے۔بھارت افغانستان میں امن اور استحکام نہیں چاہتا۔عمران خان کا کہناتھاکہ حکومت اور فوج دونوں مکمل تعاون کے ساتھ کام کر رہے ہیں‘

ماضی کی حکومتوں میں فوج کے ساتھ تعلقات میں آسانیاں نہیں تھیں تاہم ہمارے شاندار تعلقات ہیں اور میں ایمانداری سے کہتا ہوں کہ یہ انتہائی بہترین تعلقات ہیں۔ پاکستان درست راستے پر گامزن ہےتاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ مراعاتی ڈھانچہ کا ذہن تبدیل کیا جائے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار طاقتور جو اپنے اختیار کا غلط استعمال کر کے پیسے بناتے تھے انہیں احتساب کے دائرے میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جعلی خبریں چلائے وزیر اعظم کے خلاف اور وزیر اعظم انھیں عدالت لے جائے، تو کیا یہ ڈرانا دھمکانا شمار ہوگا؟۔۔۔

اب ہمیں تحفظ کی ضرورت ہے۔اس قسم کا واقعہ برطانوی وزیراعظم کے ساتھ پیش آتا تو میڈیا کو لاکھوں ادا کرنے پڑتے ۔ماضی میں جو لوگ اقتدار میں آئے اور کرپشن کی ان کا کبھی بھی احتساب نہیں ہوا‘ہم خوابوں کی دنیا میں نہیں رہتے جہاں جادو کی چھڑی گھماتے ہی حالات تبدیل ہو جائیں گے بلکہ حقیقی زندگی میں ایسا کرنے کے لیے بہت جد و جہد درکار ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے