مال بن رہا ہے، کراچی والے بھی کچھ نہیں کریں گے، شہر تباہ ہوگیا، حکومت میں اہلیت ہے نہ صلاحیت،چیف جسٹس

(اسلام آباد) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کے الیکٹرک اور پاور ڈویژن پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت، پاور ڈویژن کی رپورٹ کے الیکٹرک سے پیسے لیکر بنائی گئی، جس پاور ڈویژن والے افسر نے رپورٹ جمع کرائی اس کو پھانسی دے دینی چاہیے۔

پاور ڈویژن والوں کو کراچی لے جائیں دیکھیں لوگ کیسے ان کو پتھر مارتے ہیں، کراچی جاکر ان لوگوں کا دماغ ٹھیک ہو جائیگا، چیف جسٹس نے کہا کہ شہر تباہ ہوگیا،کراچی والے بھی کچھ نہیں کرینگے۔

وہ تومنہ سے نوالہ بھی چھین لیتے ہیں، پہلے ہی اربوں روپے بیرون ملک جاچکے ہیں، کراچی میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، کراچی والوں کے بیرون ملک اکاونٹ فعال ہوچکے ہیں، اداروں میں ہم آہنگی نہیں، آج بھی نصف کراچی پانی اور اندھیرے ڈوبا ہے۔

کے الیکٹرک پر وفاق کی رٹ نہیں، تمام ادارے کے الیکٹرک کی معاونت کرتے ہیں، اس بار بلی تھیلے سے باہر آگئی۔ سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک کیخلاف اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع خارج کرتے ہوئے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عمل درآمد کا حکم دیدیا، ساتھ ہی 10 روز میں نیپرا ٹربیونل کے اراکین تعینات کرنے کی بھی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے متعلق کیس پر کی۔ دوران سماعت سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک اور پاور ڈویژن پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاور ڈویژن کی رپورٹ کے الیکٹرک سے پیسے لے کر بنائی گئی، جس پاور ڈویژن والے افسر نے رپورٹ جمع کرائی اس کو پھانسی دے دینی چاہیے، کیوں نہ ایسی رپورٹ پر جوائنٹ سیکرٹری کو نوکری سے فارغ کر دیں۔

ہم نے موجودہ صورتحال پر رپورٹ مانگی تھی انہوں نے مستقبل کا لکھ دیا، مستقبل کو چھوڑ دیں، اب کیا کررہے ہیں اسکا بتایا جائے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے کہا تھا کہ نیپرا اور دیگر ادارے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کا حل نکال کر آئیں، کراچی میں بارشوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔

کے الیکٹرک والے اسٹے آرڈر لے کر پانچ سال تک بیٹھے رہتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواہ مخواہ کہا جاتا ہے کراچی ملکی معیشت کا 70 فیصد دیتا ہے، کراچی کے پاس دینے کیلئے اب کچھ نہیں،کراچی میں اربوں روپے جاری ہوتے ہیں لیکن خرچ کچھ نہیں ہوا، 4 سال میئر رہنے والے نے ایک نالی تک نہیں بنائی۔

لوکل گورنمنٹ والوں کو جتنے بھی پیسے ملے وہ تنخواہوں پر خرچ کئے گئے ہیں،آج بھی آدھا کراچی پانی اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، کراچی میں کے ایم سی اور کنٹونمنٹ بورڈ ہے لیکن ان کے ملازم نظر نہیں آرہے، شہر کی دیکھ بھال کا ذمہ حکومت کا ہے

لیکن ہمیں علم ہے کہ کراچی کے کرتے دھرتے کچھ نہیں کریں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کے الیکٹرک عوام کو بجلی اور حکومت کو پیسے نہیں دیتی، 2015 سے کے الیکٹرک نے ایک روپیہ حکومت کو نہیں دیا۔

حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت، حکومت کو بے بس کیا جارہا ہے کیونکہ اس کے پاس اہلیت نہیں، حکومت کے الیکٹرک کی کلرک اور منشی بنی ہوئی ہے، کے الیکٹرک نے 2015 سے رقم جمع نہیں کرائی آپ لوگ ان کے ترلے کررہے ہیں۔

وفاقی حکومت کی اگر کے الیکٹرک پر رٹ نہیں تو پورے ملک پر نہیں، وفاقی حکومت بالکل بے بس ہے، وفاقی حکومت کیا کررہی ہے؟ اس کی آخر رٹ کہاں ہے، وفاقی حکومت ایسے پاکستان چلائے گی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ کراچی میں حکومت بے بس نظر آرہی ہے، کراچی کے شہری اس وقت کے الیکٹرک کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں، کے الیکٹرک والے کراچی شہر کے ساتھ بہت برا کررہے ہیں۔

جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کے الیکٹرک کے پاس پیداواری صلاحیت نہیں تو پھر بجلی پیداوار کا خصوصی اختیار ختم ہو جاتا ہے، پاور ڈویژن کا جواب واپس لیتا ہوں نیا جواب جمع کرائیں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پاور سیکٹر کے پاس کام کرنے کا دم نہیں، ملک میں پیٹرول کا بڑا اسکینڈل آیا ،ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر آگئی۔

دس روز تک ملک مکمل بند رہا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیٹرول کے معاملے پر کمیشن بنایا ہے، جواب میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمیشن کا کیا فائدہ جس نے کام کرنا تھا وہ کر گیا۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت عوام کے فائدے کے لیے حکومت کے پاس کچھ نہیں ہے۔

اداروں کی آپس میں کوئی ہم آہنگی نہیں، تمام حکومتی ادارے کے الیکٹرک کی معاونت کے لئے ہیں، اس بار بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے، پاور ڈویژن کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں گے۔

سپریم کورٹ نے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کرکے فیصلے کا اختیار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے