میرا ماننا ہے کہ محبت ایک نہیں بار بار ہو سکتی ہے

اداکار علی رحمان خان کہتے ہیں کہ ‘ان کو محبت بھی ہوئی دل بھی ٹوٹا، ‘جب کسی سے محبت ہوجائے تو چلاتا بھی ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ محبت بار بار ہوسکتی ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ محبت ایک بار ہوتی ہے میں اس سے اتفاق نہیں کرتا محبت تو کبھی بھی کسی بھی عمر میں بار بار ہو سکتی ہے۔’
اردو نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا ڈرامہ 10 سال پہلے کے ڈرامے سے بہت بہتر ہے۔ ‘اسی طرح ہم بات کریں فلموں کی تو 10 سال پہلے جتنی فلمیں بن رہیں تھیں اب اس سے کہیں زیادہ بن رہی ہیں بلکہ ہر سال سات، آٹھ ایسی فلمیں آتی ہیں جو یاد رہ جاتی ہیں۔ آج گانے بھی ہٹ ہو رہے ہیں۔’

‘مجھے کامیڈی کرنا بہت پسند ہے اور دل چاہتا ہے کہ کامیڈی ڈرامے اور فلمیں کروں بلکہ میں نے جو تین فلمیں (جانان، پرچی، ہیرمان جا) کیں وہ ایکشن کامیڈی اور رومینٹک کامیڈی ہیں۔ ہاں میں نے ڈراموں میں سنجیدہ کردار ہی کیے ہیں سنجیدہ کردار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم ڈراموں میں جو ایشوز ہائی لائٹ کرتے ہیں یا جن سوشل ایشوز کو ڈسکس کرتے ہیں یا جو میسج عوام تک پہنچانا چاہ رہے ہوتے ہیں وہ سنجیدہ ہوتے ہیں اس میں کامیڈی کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہوتی۔’

علی رحمان نے بتایا کہ ‘کچھ عرصہ پہلے میرا ڈرامہ سیریل ‘خاص’ ختم ہوا اس میں ہم نے جو میسج لوگوں تک پہنچانا چاہا خوشی ہے کہ لوگوں نے اسی طرح اس میسج کو سمجھا جو اس کی اصل روح تھی۔ اس ڈرامے کا مرکزی کردار ایک ایسا مرد ہوتا ہے
جو شکی ہوتا ہے اور زندگی برباد کر بیٹھتا ہے، ایسے مرد بھی سوسائٹی میں ہوتے ہیں۔ جہاں تک میرے ڈرامے ‘دیارِ دل’ کی بات ہے تواس میں میرا کردار ایک ایسے لڑکے کا تھا جو یہ چاہتا ہے کہ فیملی مل کر رہے وہ سب سے محبت کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ ان کے دکھ خود لے لے یہ کریکٹر میرے دل کے بہت قریب ہے۔

اسے میں سپیشل کردار سمجھتا ہوں، بہت لطف اندوز ہوا اس کردار سے، اس ڈرامے میں مجھے سینیئر اداکار عابد علی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور ان کے ساتھ میری یہ آن سکرین آخری پرفارمنس تھی میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا، ہم نے بہت سارا وقت اکٹھے گزارا۔’

آج کل ایک ہی طرح کی کہانیاں بن رہی ہیں، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘ایک ہی طرح کی کہانیاں دیکھ دیکھ کر لوگ تنگ آجاتے ہیں ہمارا فرض ہے کہ سوشل ایشوز کو ہائی لائٹ کریں لیکن یہ کیا کہ ایک پاپولر ٹرینڈ کو پکڑ کر اسی پر دھڑا دھڑ ڈرامے بنانا شروع کر دیے جائیں، یہ چیز دیکھنے والوں کی دلچپسی کو کم کر دیتی ہے اور انہیں لگنے لگتا ہے کہ ان کے پاس تو کچھ اور دکھانے کو ہے ہی نہیں۔’

‘بطور آرٹسٹ میں تو یہی چاہتا ہوں کہ مختلف کام کروں، مختلف ایشوز پر کام ہو، کامیڈی اور سنجیدہ دونوں طرح کے ڈرامے اور فلمیں بنیں۔ کبھی کبھار ایسا موضوع ہاتھ لگ جاتا ہے جس پر بات کرنا لازمی لگنے لگتا ہے تو بس یہی سوچتے ہوئے لوگوں تک اچھا میسج جائے گا تو میں ہاں کر دیتا ہوں۔ میں کسی بھی پراجیکٹ کو بہت ہی دیکھ بھال کے اُٹھاتا ہوں، دیکھتا ہوں کہ کونٹینٹ کیا ہے اگر پرانا اور رپیٹڈ کونٹینٹ ہو تو منع کر دیتا ہوں۔’
علی رحمان خان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے لگتا ہے کہ کونٹینٹ نہ صرف مختلف ہونا چاہیے بلکہ اسے دیکھنے والوں کو کچھ الگ دیکھنے کا موقع ملے۔ اب یہاں ایک اور مسئلہ بھی ہے وہ یہ کہ جب کچھ نیا اور روٹین سے بالکل ہٹ کر آتا ہے تو بعض اوقات آﺅڈینز اسے قبول نہیں کرتی۔ ہماری عوام وہ کچھ دیکھنا چاہتی ہے جو سوسائٹی میں ہو رہا ہے اور ایسا کچھ دیکھنا چاہتے ہیں جس کے ساتھ وہ خود جوڑ سکیں، انہیں لگے کہ یہ ہماری زندگی کی کہانی ہے۔’
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شوبز میں بالکل بھی حادثاتی طور پر نہیں آیا تھا بلکہ پلاننگ تھی کہ فلموں اور ڈراموں میں کام کرنا ہے۔ مجھے اپنے کیرئیر کو لے کر کبھی کوئی شک نہیں رہا کیونکہ ذہن بنایا ہوا تھاکہ اداکار ہی بننا ہے۔
‘میں نے اسلام آباد سے تھیٹر کرنا شروع کیا اس کے بعد فلم کی اور پھر ڈرامہ کیا اس کے بعد سلسلہ چل نکلا۔ ہم لوگ پٹھان ہیں، تعلق لکی مروت سے ہے لیکن میری پرورش اسلام آباد میں ہوئی۔’

علی رحمان سے پوچھا کہ یہ جو تاثر ہے کہ پٹھان فیملیاں تنگ ذہن ہوتی ہیں اور شوبز کو پسند نہیں کرتیں، تو ان کا جواب تھا ‘جی بالکل ایسی پٹھان فیملیاں ہیں جو شوبز میں کام کرنے کو پسند نہیں کرتیں لیکن ہماری فیملی بالکل بھی تنگ ذہن نہیں تھی وہ سمجھتی ہے کہ ہر کام محنت سے ہوتا ہے اور اداکار بھی محنت سے روزی روٹی کماتے ہیں سوسائٹی کے خلاف کچھ نہیں کرتے۔ سیدھی سی بات ہے بھئی جس طرح سے لوگ انجنیئر اور ڈاکٹر ہوتے ہیں ہم اداکار ہیں اداکاری کرتے ہیں۔’
کامیڈی ڈرامے لکھنے والے کم ہیں، بنانے والے یا اداکاری کرنے والے کم ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ کامیڈی لکھنے والے بھی ہیں جو لکھ رہے ہیں، کام کرنے والے اور بنانے والے بھی ہیں، کامیڈی ایسا نہیں ہے کہ بالکل نہیں بن رہی، ‘شاہ رخ کی سالیاں’ اور ‘سنو چندا’ جیسے ڈرامے کامیڈی ہیں جن کو خاصی پذیرائی ملی۔ ‘بلبلے’ بھی واپس آ رہا ہے۔
‘میرا خیال ہے کہ لوگوں کو اب ڈرامے کافی ہیوی لگنا شروع ہو گئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ کچھ مختلف اور لائٹ دیکھیں۔ میرا تو خیال ہے کہ کامیڈی کا دور واپس آ رہا ہے اداکاروں کا بھی دل ہے کہ انہیں سنجیدہ سے ہٹ کر کامیڈی کردار دیے جائیں۔ ہمارے ہاں سِٹ کامز تو تواتر سے چلتے رہتے ہیں لیکن لوگ انہیں اس طرح نہیں سراہتے جس طرح ڈراموں کو سراہتے ہیں ڈراموں کو جو واہ واہ ملتی ہے وہ سٹ کامز کو نہیں ملتی۔’
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے آرٹسٹ بہت ہی باصلاحیت ہیں وہ دنیا کے کسی بھی فنکار کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہمارے فنکار تھیٹر اور ڈرامہ دونوں کرتے ہیں لہٰذا ان کی ٹریننگ اتنی زبردست ہو جاتی ہے کہ انہیں کہیں بھی لے جائیں وہ جھنڈے گاڑیں گے۔

آپ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ آپ محدود سرکل میں رہتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں علی رحمان نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ ‘جو لوگ مجھے جانتے ہیں ان کو پتا ہے کہ میں ایسا نہیں ہوں میں تو سخت لہجے میں بات تک نہیں کرتا بلکہ میں تو ایسا دل رکھتا ہوں کہ میں اگر کسی فلم یا ڈرامے میں کام کر رہا ہوں اور سین چیخنے چلانے والا ہو تو مجھے برا لگ رہا ہوتا ہے جیسے ہی سین اوکے ہوتا ہے تو میں لوگوں سے سوری کر رہا ہوتا ہوں کہ میں اتنا چیخا چلایا۔’
علی رحمان خان کی ایک کمپین بہت مشہور ہوئی جس میں وہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ‘تم مجھے جانتے نہیں کہ میں کون ہوں’ اس پر لوگوں کا فوری ری ایکشن کافی نیگیٹیو تھا۔ اس مہم کو کرنے سے پہلے اندازہ تھا کہ ایسا ری ایکشن آئے گا؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چونکہ بہت زیادہ سوشل ورک کرتا رہتا ہوں تو سوشل ایشوز کو ہائی لائٹ کرنے کے لیے قطار میں سب سے پہلے کھڑا ہوتا ہوں۔
میں سمجھتا ہوں کہ جب ہم کسی مہم کا حصہ بنتے ہیں تو اس پر اچھا برا ری ایکشن فور ی طور پر ضرور آتا ہے۔ میں نے جب ‘تم مجھے جانتے نہیں کہ میں کون ہوں’ مہم چلائی تو میں نے بالکل وضاحت نہیں کی کہ میں نے ایسا کیوں کیا کیونکہ میں کچھ غلط تو کر نہیں رہا تھا اگر غلط کرتا تو یقیناً سوری کرتا۔ ہاں لیکن جو لوگ مجھے جانتے تھے ان کو پتا تھا کہ یہ جو علی رحمان خان ویڈیو میں کر رہا ہے یقیناً یہ مہم ہوگی۔’
‘مجھے بہت سارے اداکاروں کی فون کالز آئیں اور ان کا پہلا سوال یہی تھا کہ یار یہ یقیناً کوئی مہم ہی ہے کیونکہ جتنا ہم تمہیں جانتے ہیں تم ایسے نہیں ہو، اس لیے جب ہم ایسے سوشل ایشوز کومہم کی صورت میں ہائی لائٹ کرتے ہیں تو اچھا برا ری ایکشن برداشت کرنا پڑتا ہے۔’ آخر میں انہوں نے کہا کہ ‘میرا مستقبل میں بھی فلمیں اور ڈرامے کرنے کا ارادہ ہے۔ سکرپٹ پڑھ رہا ہوں بہت جلد اپنے پراجیکٹس پرستاروں کے ساتھ شیئر کروں گا۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے