نواز شریف واپسی، اقدامات منظور، وزارت خارجہ اورFIA کو ٹاسک دیدیا گیا، قانونی جنگ اور برطانیہ سے رابطے کا حکم، وفاقی کابینہ کا فیصلہ

اسلام آباد(ایجنسیاں)وفاقی حکومت نے نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کی منظوری دیدی ۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں نواز شریف کو وطن واپس لانے پر بات چیت ہوئی اور مختلف پہلوں پر غور کیا گیااور اس حوالے سے وزارت خارجہ اور ایف آئی اے کو ٹاسک سونپ دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس نے سابق وزیراعظم کی واپسی کیلئے قانونی جنگ لڑنے اور برطانیہ سے رابطہ کرنے کا حکم دیدیا۔ذرائع کے مطابق برطانوی حکومت کو ایک بار پھر خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

عمران خان نے ہدایت کی کہ نواز شریف کو وطن واپس لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں‘ برطانوی حکومت کی مدد سے نواز شریف کو واپس لائیں گے‘نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے بھاگے ہیں‘احتساب کا عمل بلاتفریق جاری رہے گا۔

اپوزیشن کو احساس ہوچکا ہے کہ این آر او نہیں ملے گا‘ن لیگی رہنماءاپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے کیسز سے توجہ ہٹانے کیلئے اداروں کو متنازع بنارہے ہیں‘حکومت اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گی۔

عمران خان نے گندم کی درآمد میں تاخیر پر برہمی کا اظہار بھی کیا‘وزیر اعظم نے اپوزیشن کی تحریک اورسیاسی امورپر نظر رکھنے کیلئے سینئروزراء پر مشتمل کابینہ کمیٹی بنادی۔

کمیٹی میں کابینہ ارکان اسدعمر، شفقت محمود، شیخ رشید، شہزاد اکبر، ڈاکٹر بابر اعوان اور فواد چوہدری شامل ہوں گے ۔کابینہ نے سیکرٹری کابینہ احمد نواز سکھیرا کو اسلام آباد کلب کا ایڈمنسٹریٹر اورسید حسین عابدی کو چیئرمین پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر)اسلام آباد تعینات کرنے کی منظوری دی۔

وفاقی کابینہ نے برطانوی ایئرلائن ورجن اٹلانٹک کو پاکستان اور برطانیہ کے مابین پروازوں کے اجراء، ٹی سی پی کی جانب سے درآمد کی جانے والی گندم کے حوالے سے پری شپمنٹ ایجنسیوں کو پری۔

شپمنٹ انسپیکشن کی ون ٹائم اور افغانستان کے حوالے سے مجوزہ ویزا پالیسی کی اصولی منظوری دیدی ہے ۔

کابینہ کومالی سال 2018، 2019اور 2020میں حکومتی قرضوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کو تیس کھرب روپے کا قرضہ ورثے میں ملا جس کی قسطیں ادا کرنے اور ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لئے حکومت کو مزید قرضے لینے پڑے۔

بیرونی قرضوں کی مد میں موجودہ حکومت نے تقریباً چوبیس ارب ڈالر قرضہ حاصل کیا جس میں سے دو ارب ڈالر عبوری دورِ حکومت میں اٹھایا گیا۔

گذشتہ دورِ حکومت میں ہر سال تقریبا ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی شرح سے قرضے واپس کیے جاتے تھے لیکن موجودہ دورِ حکومت میں ہر سال تقریبا دس ارب ڈالر کے حساب سے قرضے واپس کیے جا رہے ہیں۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ 2019میں حکومتی قرضوں میں 7.7کھرب روپے کا اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ (3.1کھرب روپے) روپے کی حقیقی قدر کو بحال کرنا تھا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ماضی کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مالی سال 2018میں توانائی شعبے کا سالانہ گردشی قرضہ 450ارب روپے تھا۔

اگر موجودہ حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات نہ کیے جاتے تو سال 2020میں یہ قرضہ 853ارب روپے ہوتا اور 2023میں اس میں 1610ارب روپے کا اضافہ ہوتا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں سال 2020میں 853 ارب روپے گردشی قرضے میں تین سو ارب روپے سے زائد کی کمی آئی ہے اور اس سال گردشی قرضے کا تخمینہ 538 ارب روپے لگایا جا رہا ہے۔

کابینہ نےآمنہ بی بی کو بطور اینالسٹ فار بائیولوجیکل ڈرگز تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ 2020کے تحت میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر اور نائب صدر (ڈاکٹر ارشد تقی اور علی رضا) کی تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ کو ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کے معاملے میں ہونے والی انکوائری رپورٹ پیش کی گئی۔

کابینہ نے رپورٹ کی سفارشات کو منظور کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے ارسا کے ممبران کو ہٹانے کے اصولی فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں مزید کاروائی کی جائے گی۔

ارسا کا پرفارمنس آڈٹ کرا یاجائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ارسا کے قانون میں ضروری ترامیم بھی عمل میں لائی جائیں گی۔ کابینہ نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی کی بطور سی ای او تعیناتی کی ایکس پوسٹ فیکٹو (بعد از عمل) منظوری دی۔

یہ تعیناتی منصوبے کو تاخیر سے بچانے کی غرض سے واپڈا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات اور وزیرِ اعظم کی منظوری سے کی گئی تھی۔

کابینہ نے سی ای او کو مزید ایک سال توسیع دینے کی منظوری دی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 23ستمبر2020کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی منظوری دی۔

کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 24ستمبر 2020کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی تو ثیق کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے