وری دنیا میں جشن کا سماں :کورونا کی وبا کا خاتمہ۔۔۔!!!عالمی ادارہ صحت نےپوری دنیا کو بڑی خوشخبری سنادی

جنیوا: عالمی ادارہ صحت کے سربراہ انتونیو گوئتریس نے امید ظاہر کی ہے کہ کورونا کی وبا 2 برس سے کم عرصے میں مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔جنیوا میں تقریب سے خطاب میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ کورونا پر قابو پانے کےلیے عالمی اتحاد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل اسپینش فلو پر قابو پانے میں بھی 2 سال لگے تھے۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ترقی کورونا وائرس کو ’کم سے کم وقت میں روکنے‘ میں مدد دے سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک 2 کروڑ 31 لاکھ 43 ہزار 388 افراد متاثر ہوچکے ہیں۔مہلک وائرس نے اب تک 8 لاکھ 3 ہزار 597 افراد کی جان لے لی ہے۔وبائی مرض مسلسل اپنے خونخوار پنجے گاڑے ہوئے ہے،

جس کے باعث مریضوں کے ساتھ اموات میں بھی روز برروز اضافہ ہورہا ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پوری دنیا بے صبری سے کورونا وائرس کی ویکسین کی منتظر ہے۔ ہر کوئی یہ سوال پوچھتا نظر آتا ہے

کہ اس موذی وباءسے کب جان چھوٹے گی؟ تاہم اب عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے اس سوال کا ایسا جواب دے دیا ہے کہ سن کر دنیا پریشان رہ گئی۔ میل آن لائن کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایدھنم گھیبریسس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ممکنہ طور پر مزید دو سال تک دنیا میں رہ سکتا ہے

اور یہ دو سال ہمیں اسی وباءکے ساتھ گزارنے ہوں گے۔ کورونا وائرس ایسی وباءہے جو صدی میں ایک بار آتی ہے، اس سے مکمل نجات پانے میں ہمیں کم سے کم 2سال لگ سکتے ہیں۔ٹیڈروس ایدھنم کا کہنا تھا کہ ”1918ءمیں سپینش فلو کی وباءپھیلی تھی تاہم اس کے پھیلنے کی رفتار بہت کم رہی۔

اس کے برعکس کورونا وائر س کئی گنا زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ گلوبلائزیشن ہے۔ 20ویں صدیں کے اوائل میں سفر اتنا تیز اور آسان نہیں تھا۔ آج دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے جس کی وجہ سے کورونا وائرس تیزی سے پھیلا۔ تاہم اس میں ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے

کہ آج ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے کہ ہم اس وباءپر جلدی قابو پا سکتے ہیں۔ ایک صدی قبل ایسی ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی۔مجھے امید ہے کہ ہم دو سال کے عرصے میں اس وباءپر قابو پا لیں گے۔“

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے