‘پہلے بھی کہا جاتا تھا کہ بالی وڈ بُری جگہ ہے یہاں نہیں جانا’

گذشتہ کئی ہفتوں سے انڈین فلم انڈسٹری سے متتعلق ہیڈلائنز توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
بالی وڈ کی سپر سٹار کنگنا رناوت اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد بالی وڈ میں اقربا پروری کے خلاف بول رہی ہیں، ابھی حال ہی میں اداکارہ ماہیما چوہدری نے سبھاش گھئی کے خلاف ڈرانے دھمکانے سے متعلق بات کی جبکہ اب اداکارہ بھاگیہ شری انڈین فلم انڈسٹری میں اپنے تجربے سے متعلق اظہار کر رہی ہیں۔

اداکارہ بھاگیہ شری نے 1989 میں ’میں نے پیار کیا‘ سے شہرت حاصل کی، اس میں ان کے مدمقابل اداکار سلمان خان تھے۔

ان کی سکرین پر جوڑی اور کیمسٹری نے انہیں وقت کی مقبول جوڑی بنایا۔ تب سے انہوں نے کئی دلچسپ پروجیکٹس میں کام کیا۔
تاہم کنگنا اور ماہیما کے برعکس بھاگیہ شری کو بالی وڈ میں کسی تلخ تجربے کا سامنا نہیں رہا۔
ہندوستان ٹائمز کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ان کو کبھی بھی بالی وڈ میں کوئی بدنما تجربہ نہیں ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ ’ ہو سکتا ہے کچھ ایسے ہوں جہاں میں نے گمان کیا ہو کہ شاید کچھ نا کچھ کام کر جائے لیکن کسی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا ہو۔
میں اس معاملے کو سیکھنے کا ایک موقع سمجھتی ہوں، ہو سکتا ہے میں جو کرنا چاہتی ہوں کسی کمی کی وجہ سے وہ نہ کر سکی ہوں۔‘

اداکار سشانت سنگھ کی خودکشی کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سارے لوگ بالی وڈ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ کئی لوگوں نے بالی وڈ کو کام کے لیے ایک منفی جگہ کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے۔

بھاگیہ شری نے کہا کہ ‘جب ہم فلموں میں آ رہے تھے تو تب بھی یہ تھا کہ فلم ایک بری دنیا ہے اور اچھے خاندان سے کسی کو بھی بالی وڈ جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔’
انہوں نے بتایا کہ یہ چیز 30 برس پہلے بھی تھی، لیکن اب چیزیں بدل چکی ہیں۔
آپ اس کو دیگر کام کی جگہوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سیٹ ڈیزائننگ سے لے کر میک اپ تک ہر حصے میں خواتین موجود ہیں، میں کہوں گی کہ یہ اب بھی ایک صنعت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بالی وڈ بھی ویسی ہی ہے جیسی کہ دنیا، یہاں بھی اچھے اور برے لوگ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے