چین نے پاکستان کو بینک میں رکھے ایک ارب ڈالر استعمال کی اجازت دیدی

اسلام آباد : چین نے پاکستان کو بینک میں رکھے ایک ارب ڈالر استعمال کی اجازت دیدی ہے۔ جب کہ ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے گورنر اسٹیٹ بینک کو شرح سود کم کرنے پر مجبور کیا جس سے قرضوں میں 200 سے 300 ارب روپے کی کمی ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق، چین نے پاکستان کو بینک میں رکھے ایک ارب ڈالر بجٹ سپورٹ کی مد میں استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس اجازت کے بعد حکومت کو بینکنگ اور نان بینکنگ اداروں سے مقامی طور پر 165 ارب روپے سے 169 ارب روپے قرض لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ چین نے بجٹ ضروریات پوری کرنے کے لیے 1 ارب ڈالر کو روپے کے برابر استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس ضمن میں جب وزارت خزانہ کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ چین کی جمع کی گئی رقم سرکاری قرضہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت پاکستان کو پاکستانی روپے میں یہ رقم موصول ہوگی۔

چین نے اسٹیٹ بینک میں سب سے زیادہ رقم جمع کرائی ہے تاکہ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوسکیں۔

فی الحال پاکستان کے غیر ملکی ذرمبادلہ کے ذخائر 19.6 ارب ڈالرز ہیں، جس میں سے اسٹیٹ بینک کے پاس 12.6 ار ڈالرز ہیں، جب کہ کمرشل بینکوں کے پاس 7.01 ارب ڈالرز ہیں۔ شرح سود میں کمی سے شرح مبادلہ پر دبائو بڑھا ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں درآمدات میں اضافے کے خدشات ہیں، جو عدم توازن کا سبب بن سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے