کراچی کیلئے 1100ارب کا میگا پیکیج،شہر قائد کے تمام مسائل ایک ہی بارپی سی آئی سی کی زیر نگرانی حل کرنے کا فیصلہ

کراچی پیکج

(کراچی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر کراچی کیلئے گیارہ سو ارب روپے کا پلان لے کر آئے ہیں جو تین سال میں مکمل کیا جائے گا، اس کے تحت کراچی میں پینے کے پانی، سیوریج سسٹم، سولڈ ویسٹ، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کیا جائے گا،

کراچی میں بارشوں سے جو تباہی سمیت دیگر مسائل کو ایک ہی دفعہ حل کرنے کافیصلہ کیا ہے، کراچی میں مختلف اداروں کی مداخلت ہے اس لیے پی سی آئی سی بنائی جائیگی، اس کے ذریعے تمام اسٹیک ہولڈرز ایک جگہ آجائیں گے،کورونا کے پھیلا ؤکے بعد فوری طور کمیٹی بنا کر اقدامات کیے اور اسی طرح ٹڈی دل کے معاملے پر بھی فوری ایکشن لیا گیا،

بارشوں کی وجہ سے ملک بھر میں جہا ں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ہفتہ کو کراچی کے خصوصی دورے کے موقع پر نیوز بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہامیں کراچی کے دورے پر پہلے ہی آ جاتا لیکن ہمیں کورونا وائرس کی طرز پر فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے ایک اسٹرکچر تشکیل دینا تھا جو وزیراعلی سندھ کے ماتحت کام کریگا۔ وزیراعظم نے کہا اب جو بھی فیصلے کیے جائیں گے

اس کی نگرانی پرووِنشل کوآرڈینیشن اینڈ امپلی مینٹیشن کمیٹی (پی سی آئی سی)کرے گی۔ کمیٹی میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں جبکہ پاک فوج کا اس میں بہت بڑا کردار ہے کیونکہ سیلاب اور صفائی کے معاملات پر ہمیں فوج کی ضرورت ہوگی۔

دنیا میں جب بھی اس طرح کی قدرتی آفت سامنے آتی ہے تو اس میں فوج سب سے آگے ہوتی ہے کیونکہ وہ سب سے منظم ادارہ اور اس کے پاس سب سے زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کراچی کیلئے جو پیکج لے کر آئے ہیں وہ تاریخی پیکج ہے جس میں وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں تعاون کررہی ہیں۔

پیکج کے تحت حل کیے جانیوالے مسائل کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا مسئلہ ہے اور اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ”کے فور“ منصوبے کا ایک حصہ صوبائی جبکہ دوسرا حصہ وفاقی حکومت لے گی اور اسے جلد مکمل کر کے آئندہ 3 برس میں کراچی کا پانی کا مسئلہ مستقل طور پر حل کردیا جائے۔

دوسرا مسئلہ نا لو ں کا ہے جہاں تجاوزات ہیں اور غریب لوگ رہائش پذیر ہیں، اس کیلئے این ڈی ایم اے نالے صاف کررہی ہے جبکہ وہاں بسے افراد کو متبادل جگہ فراہم کرنے کی ذمہ دار ی سندھ حکومت نے اٹھائی ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کراچی کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں انٹر سروسز انٹیلی (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ، گورنر عمران اسماعیل، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز، وفاقی وزراء شبلی فراز، اسد عمر، سیّد علی زیدی، امین الحق، صوبائی وزراء سعید غنی، ناصر شاہ اور سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم کو کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعظم نے حالیہ نقصا نا ت کے ازالے کیلئے وفا ق کی طرف سے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کراچی پاکستان کا اہم ترین شہر اور معاشی حب ہے، اس کے مسا ئل کا حل باہمی اشتراک سے ممکن ہے۔ مجھے آج خوشی ہے وفاقی، پاک فوج اورصوبائی حکومت کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے موجود ہیں۔

دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کراچی کیلئے اعلان کیے گئے 1113 ارب روپے کہاں خرچ ہونگے؟ اس کی تفصیلات وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری کر دی گئی ہیں۔جس کے مطابق کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کیلئے 1113 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ شہر قائد میں واٹر سپلائی منصوبوں کیلئے 92 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیرا عظم آفس کے مطابق سیوریج ٹریٹمنٹ پر 141 ارب روپے خرچ ہونگے، آفس سولڈ ویسٹ مییجمنٹ، نکاسی آب کیلئے 267 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، سڑکوں کی بحالی اورنئی سٹرکوں کی تعمیر پر 41 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

شہر قائد کیلئے اعلان کردہ ماس ٹرانزٹ، ریل اور روڈ ٹرانسپورٹ کیلئے 572 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے ملاقات کی۔ گورنر ہاس میں ہونیوالی اس ملاقات میں وفاقی وزیر اسد عمر، صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی، وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ بھی میں شریک تھے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں کراچی سمیت سندھ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے سمیت وفاق اور صوبیمیں باہمی تعاون،ورکنگ ریلیشن شپ پرگفتگو کی گئی۔ گورنر سندھ نے وزیراعظم کو کراچی میں بارش کے بعد کی صورتحال جبکہ کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ پر بریفنگز دی گئیں۔ بعد ا زاں وزیر اعظم عمران خان سے گورنرہاؤس میں تاجر اورکاروباری طبقے کے وفد نے بھی ملاقات کی۔

ملاقات میں وفاقی وزرا اسد عمر، شبلی فراز، علی زیدی، فیصل واوڈا، گورنر سندھ عمران اسماعیل،مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر بھی موجودتھے۔کاروباری وفد میں آصف اکرام، نجیب بلگموالا، اعظم فاروق، بشیر علی محمد، فیصل مقبول شیخ، طارق شفیع اور محمد علی تابا شامل تھے۔

میاں انجم نثار، آغا شہاب شہاب احمد، نسیم اختر، عبداللہ عابد، سلیمان چالا، نوید شکور، نعمان یعقوب اور شاہین الیاس سروانہ پر مشتمل وفد نے بھی وزیرِ اعظم سے ملاقات کی۔وفد نے وزیر اعظم کو کوویڈ وبا کے حوالے سے کامیابی حکمت عملی پر مبارکباد دی اور کاروباری طبقے کو مراعات فراہم کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ کاروباری طبقہ ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ ان کو تمام سہولیات فراہم کرے۔

کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تعمیرات اور اس سے منسلک شعبوں کے فروغ سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت کا مقصد کاروبار اورسرمایہ کاری کے نظام میں آٹومیشن لانا ہے جس کی بدولت کاروباری حضرات کو کم سے کم وقت میں اور شفاف طریقے سے کاروبار کرنا ممکن ہو سکے گا۔وفد نے وزیر اعظم کو برآمدات کے فروغ،ٹیکس اصلاحات کیلئے اہم تجاویز پیش کیں۔

دریں اثناء وزیراعظم عمران خان سے ایم کیوایم پاکستان کے وفد نے پارٹی کنونیئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ملاقات کی۔ایم کیوایم پاکستان کے وفد میں وفاقی وزیر امین الحق اور فیصل سبزواری شامل تھے۔

ملاقات میں کراچی کے مسائل،ترقیاتی منصوبوں،ایم کیوایم پاکستان کے مطالبات اور دیگر امور پر گفتگو ہوئی۔

وزیراعظم نے تمام مسائل کو سنا اور ان کو بتدریج قانون کے مطابق حل کرنے کا اعادہ کیا۔دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے صدر اور جی ڈی اے کے مرکزی رہنما سید صدرالدین شاہ راشدی نے بھی گورنر ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان سے ون ٹو ون ملاقات کی،جس میں انہوں نے وزیر اعظم کو جی ڈی اے کے تحفظات سے آگاہ کیا

اور کہاکہ وہ سندھ کے عوام سے احساس محرومی کو ختم کرنے کیلئے بارشوں اور سیلاب سے متاثر دیگر اضلاع کا دورہ کریں اور ریلیف پیکیج دیں۔انہوں نے وزیراعظم کو یہ بھی کہا کہ گورنر سندھ کوہدایت دیں کہ ہر ماہ حکومتی اتحادی جماعتوں کا اجلاس بلائیں،

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے سید صدرالدین شاہ راشدی کو جی ڈی اے کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا وہ جلد بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ دیگر اضلاع کا د ورہ کرکے پیکیج کا اعلان کریں گے۔دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نے کراچی میں بچوں کی غذائی ضروریات کی کمی اور علاج معالجے کی سہولیات کے فقدان کے حوالے سے نوٹس لے لیا۔

وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کی وساطت سے غذائی کمی کے شکار بچوں اور ان کے والدین کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات کرائی گئی۔والدین نے درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ اس ضمن میں وزیر اعظم نے ہدایت کی کے ان خصوصی بچوں کو ہسپتالوں میں خصوصی توجہ دی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے