کراچی: 13 فیصد اساتذہ میں کورونا کیسز کی تصدیق

طویل لاک ڈاؤن کے بعد ایس او پیز کے ساتھ تعلیمی ادارے کل سے کھلنے جارہے ہیں، تاہم اس حوالے سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ان تقریباً 13 فیصد اسکول اسٹاف میں کورونا مثبت سامنے آیا ہے جس نے اس معاملے کو مزید کراچی میں اسکول کل سے کھلنے کے لیے مزید خطرناک بنارہی ہے۔

جیو ڈاٹ ٹی وی میں شائع خبر کے مطابق صحت سے متعلق ایک ادارے نے صرف آٹھ نجی اسکولوں میں سروے کرکے یہ نتائج اخذ کیے ہیں۔

اس ادارے کے سی ای او ڈاکٹر سعد صدیقی نے بتایا کہ ہم نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کراچی کے آٹھ پرائیویٹ اسکولوں کے اسٹاف کے تقریباً 2 ہزار ٹیسٹ کیے جن میں 13 فیصد مثبت کیسز سامنے آئے۔

انھوں نے ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ رواں ہفتے کے دوران شہر کے دیگر اسکولوں میں تقریباً 1500 مزید ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر سعد کا کہنا تھا کہ اگر ہم کچھ نتائج کو غلط بھی قرار دیدیں تب بھی ہمیں دس فیصد مثبت کیسز ملیں گے، جو خطرناک ہوسکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ان کی کسی حکومتی نمائندے سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے، تاہم صورتحال کافی سنجیدہ ہے۔

انھوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی بھی کریں، جبکہ انھیں بڑی عمر کے لوگوں سے دور رکھیں جن سے یہ وائرس بچوں میں ٹرانسفر ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ عالی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور کیسز کی شدت میں کمی کے بعد کل سے تمام تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولے جا رہے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے مطابق 15ستمبر یعنی کل سے تمام تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولے جارہے ہیں، این سی او سی کی جانب سے پوسٹ کورونا ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بچوں کو ماسک پہنا کر اسکول بھیجیں چاہے وہ کپڑے کا ماسک ہی ہو۔

این سی او سی کا مزید کہنا ہے کہ کھانسی یا بیماری کی علامات ہونے پر بچوں کو اسکول ہر گز نہ بھیجیں، اگر طبیعت زیادہ خراب ہو تو بچوں کا فوری ٹیسٹ کروایا جائے اور ٹیسٹ پازیٹیو آنے کی صورت میں اسکول کو مطلع کیا جائے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) نے کہا ہے کہ بچوں کے درمیان سماجی فاصلہ برقرار رکھیں، یقین کریں کہ بچے کے ہاتھ باقاعدگی سے دھوئیں یا ہینڈ سینیٹائیزر کا استعمال کریں۔

این سی او سی نے کہا ہے کہ ڈرائیور حضرات اپنی گاڑیوں کی سواریوں میں سماجی فاصلہ یقینی بنائیں، گاڑی میں بٹھاتے وقت یقینی بنائیں کہ بچوں نے فیس ماسک پہنے ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے